یوں تو ہو گا یہ جی کچھ اور نڈھال

ماجد صدیقی


ہو نہ محتاج پرسشِ احوال
یوں تو ہو گا یہ جی کچھ اور نڈھال
وہ ترا بام ہو کہ ہو سرِ دار
پستیوں سے مجھے کہیں تو اچھال
گل بہ آغوش ہیں مرے ہی لیے
یہ شب و روز یہ حسیں مہ و سال
دن ترے پیار کا اجالا ہے
شب ترے عارضوں کا مدھم خال
میں مقید ہوں اپنی سوچوں کا
بن لیا میں نے شش جہت اک جال
بے رخی کی تو آپ ہی نے کی
آپ سے کچھ نہ تھا ہمیں تو ملال
ہے اسی میں تری شفا ماجدؔ
لکھ غزل اور اسے گلے میں ڈال
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست