اب اپنے آپ کو یوں عمر بھر سزا دوں گا

ماجد صدیقی


یہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھلا دوں گا
اب اپنے آپ کو یوں عمر بھر سزا دوں گا
ہوا یہ سایۂ ابلق بھی اب جو نذر خزاں
تو راہ چلتے مسافر کو اور کیا دوں گا
سموم عام کروں گا اسی کے ذروں سے
فضائے دہر کو اب پیرہن نیا دوں گا
وہ کیا ادا ہے مجھے جس کی بھینٹ چڑھنا ہے
یہ فیصلہ بھی کسی روز اب سنا دوں گا
سزا سناؤ تو اس جرم زیست کی مجھ کو
صلیب درد کی بنیاد تک ہلا دوں گا
ہر ایک شخص کا حق کچھ نہ کچھ ہے مجھ پہ ضرور
میں اپنے قتل کا کس کس کو خوں بہا دوں گا
جو سانس ہے تو یہی آس ہے کہ اب ماجدؔ
شبِ سیاہ کو بھی روپ چاند سا دوں گا
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست