صبح ہوتے ہی

ثروت حسین


صبح ہوتے ہی آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں سڑکوں پر
اور شروع کر دیتے ہیں ناچ
آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں اپنے رنگے چہروں اور لمبی ٹوپیوں کے ساتھ
توڑ پھوڑ ڈالتے ہیں آسمان
دھجی دھجی کر دیتے ہیں دھوپ
الجھا لیتے ہیں ہوا کی ڈور اپنے ہاتھوں میں
راستہ نہیں دیتے میت گاڑیوں کو اور آگ بجھانے والے انجن کو
بھر دیتے ہیں سیارے کو بیہودہ فقروں سے
اور شام آتی ہے
لوٹ جاتے ہیں سورج کے ساتھ کورس گاتے ہوئے
اور رات ہوتی ہے
اور صبح ہوتی ہے
صبح ہوتے ہی آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں سڑکوں پر
اور شروع کر دیتے ہیں ناچ۔۔۔
 
فہرست