لوگ کہتے ہیں

سیف الدین سیف


لوگ کہتے ہیں کہ پربت سے نکل کر چشمے
کسی کھوئی منزل کی طرف بہتے ہیں
اور سرِ شام ہوا ان کے لیے چلتی ہے
جن کے محبوب بہت دور کہیں رہتے ہیں
کوئی پیغام نہیں جس کی توقع ہو مجھے
کس لیے گوش بر آواز ہوں معلوم نہیں
جو کبھی دل میں تمنا تھی وہ آغوش میں ہے
اب کدھر مائلِ پرواز ہوں معلوم نہیں
نہیں معلوم کہ اس غم کی حقیقت کیا ہے
اشک بن کر مری آنکھوں سے بہا جاتا ہے
لب پہ آتا نہیں وہ جذبۂ بے تاب مگر
گیت بننے کے لیے دل میں رہا جاتا ہے
 
فہرست