قسم

سلام مچھلی شہری


زلف مہکی ہوئی جگمگاتی جبیں
چہرہ دمکا ہوا آنکھ ہے سرمگیں
ہاتھ مہندی رچی ہونٹ بھی احمریں
حسن اور حسن کی اس ادا کی قسم
آج آئے گی شاید قیامت کہیں
آج ہر پھول جیسے کرن پھول ہے
آج سرکار کا ہر سخن پھول ہے
آرزو ایک خوشبو بدن پھول ہے
ساتھ دیتی ہوئی اس فضا کی قسم
آج دم لے گی جلوؤں کی شدت کہیں
حسن خود بیں سہی حسن تنہا نہیں
شمع جیسی بھی ہو بن پتنگا نہیں
ان دنوں اہل دل کا بھروسا نہیں
دیکھنا اس مچلتی حیا کی قسم
آ نہ جائے کسی کی طبیعت کہیں
آج جو بھی ادا ہے وہ منظوم ہے
پھر بھی یہ حسن با ذوق معصوم ہے
آج کیسا زمانہ ہے معلوم ہے
وقت کی بہکی بہکی ہوا کی قسم
لٹ نہ جائے گل نو کی عظمت کہیں
 
فہرست