بھائی بھلکڑ

شان الحق حقی


دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑ
باتیں ان کی ساری گڑبڑ
راہ چلیں تو رستہ بھولیں
بس میں جائیں تو بستہ بھولیں
پورب جائیں پچھم پہنچیں
منزل پر اپنی کم پہنچیں
ٹوپی ہے تو جوتا غائب
جوتا ہے تو موزہ غائب
پیالی میں ہے چمچہ الٹا
پھیر رہے ہیں کنگھا الٹا
کام ہے ان کا سارا الٹا
اور تو اور پجامہ الٹا
لوٹ پڑیں گے چلتے چلتے
چونک اٹھیں گے بیٹھے بیٹھے
سودا دے کر دام نہ دیں گے
دام دیے تو چیز نہ لیں گے
کوئی پکارے دام تو لاؤ
کوئی کہے بنڈل تو اٹھاؤ
تیرنے جائیں گھڑی بھول آئیں
باغ میں جائیں چھڑی بھول آئیں
وہ تو یہ کہیے کہ خدا نے
جوڑ دیے ہیں اعضا تن سے
باندھ رکھے ہیں سب کل پرزے
ورنہ ہر روز آپ یہ سنتے
گر گئی میری داہنی چھنگلی
ڈھونڈ رہا ہوں بیچ کی انگلی
کیا کہیے اوسان ہیں غائب
کل سے دونوں کان ہیں غائب
ایک تو صابن دان میں پایا
ایک نہ جانے کس نے اڑایا
ران ایک لپٹی شال سے نکلی
ناک بندھی رومال میں نکلی
تم نے تو نہیں دیکھی بھائی
کھونٹی پر تھی کھال ہماری
بھولے کہیں سر اور کہیں دھڑ
ہائے بےچارے بھائی بھلکڑ
 
فہرست