وہ جاں پہ بنی ہے کہ جیے بن نہ رہا جائے

شان الحق حقی


اتنا ہی نہیں ہے کہ ترے بن نہ رہا جائے
وہ جاں پہ بنی ہے کہ جیے بن نہ رہا جائے
اب دسترس شوق ہے بس نام تک اس کے
اکثر جسے سو طرح لکھے بن نہ رہا جائے
غم بردہ سہی غنچۂ افسردہ سہی دل
تم پیار سے دیکھو تو کھلے بن نہ رہا جائے
ہے دل ہی وہ ناداں کہ ہو تدبیر سے نومید
اور پھر کوئی تدبیر کیے بن نہ رہا جائے
افتاد میں کچھ سعی متانت نہیں چلتی
رونے کو جو روکیں تو ہنسے بن نہ رہا جائے
ہم وہ ہیں کہ صد کعبہ و صد دیر کے ہوتے
گوشہ کوئی تعمیر کیے بن نہ رہا جائے
کچھ دیر گزرتی ہے کہ اے بلبلِ ناشاد
صیاد سے نخچیر ہوئے بن نہ رہا جائے
ہر چند کہ فرقت میں تری زہر ہو جینا
کچھ قہر ہے ایسا کہ جیے بن نہ رہا جائے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست