چہروں پہ جو سجا ہے ملمع اتاریے

افضل منہاس


مٹتے ہوئے نقوش وفا کو ابھاریے
چہروں پہ جو سجا ہے ملمع اتاریے
ملنا اگر نہیں ہے تو زخموں سے فائدہ
چھپ کر مجھے خیال کے پتھر نہ ماریے
کوئی تو سرزنش کے لیے آئے اس طرف
بیٹھے ہوئے ہیں دل کے مکاں میں جواریے
ہاتھوں پہ ناچتی ہے ابھی موت کی لکیر
جیسے بھی ہو یہ زیست کی بازی نہ ہاریے
شکوہ نہ کیجیے ابھی اپنے نصیب کا
سانسوں کی تیز آنچ پہ ہر شب گزاریے
مسمار ہو گئی ہیں فلک بوس چاہتیں
شہر جفا سے اب نہ مجھے یوں پکاریے
پھولوں سے تازگی کی حرارت کو چھین کر
موسم کے زہر کے لیے گلشن سنواریے
رسوائیوں کا ہو گا نہ اب سامنا کبھی
جلدی سے آرزو کو لحد میں اتاریے
افضلؔ یہ تیرگی کے مسافر کہاں چلے
جی چاہتا ہے ان پہ کئی چاند ماریے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست