میں کہر میں لپٹا ہوں شفق چاہیے مجھ کو

اقبال ساجد


سورج ہوں چمکنے کا بھی حق چاہیے مجھ کو
میں کہر میں لپٹا ہوں شفق چاہیے مجھ کو
ہو جائے کوئی چیز تو مجھ سے بھی عبارت
لکھنے کے لیے سادہ ورق چاہیے مجھ کو
خنجر ہے تو لہرا کے مرے دل میں اتر جا
ہے آنکھ کی خواہش کہ شفق چاہیے مجھ کو
ہو وہم کی دستک کہ کسی پاؤں کی آہٹ
جینے کے لیے کچھ تو رمق چاہیے مجھ کو
ہر بار مری راہ میں حائل ہو نیا سنگ
ہر بار کوئی تازہ سبق چاہیے مجھ کو
جو کچھ بھی ہو باقی وہ مرے ہاتھ پہ لکھ دے
مضمون بہر طور ادق چاہیے مجھ کو
جو ذہن میں تصویر ہے کاغذ پر اتر آئے
دنیا میں نمائش کا بھی حق چاہیے مجھ کو
ہر پھول کے سینے میں گلِ سنگ ہو ساجدؔ
ہر سنگ میں اک رنگ قلق چاہیے مجھ کو
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست