بسترِ خواب پہ جاگی ہوئی کروٹ جیسے

شاذ تمکنت


سحر و شام مری دور کی آہٹ جیسے
بسترِ خواب پہ جاگی ہوئی کروٹ جیسے
اک تصنع ہے کہ سب جیتے ہیں جی لینا ہے
زندگی تیرے بغیر ایک بناوٹ جیسے
تری پلکیں ہیں کہ جس طرح سپر ڈالے کوئی
تری آنکھیں ہیں تری پیاس کا پنگھٹ جیسے
انگلیاں کانپتی ہیں چٹکیاں جل اٹھتی ہیں
آج تک حسن کے چہرے پہ ہو گھونگھٹ جیسے
کس کو معلوم تھا ناموس جبیں کا انجام
ایک دنیا ہوئی مجھ کو تری چوکھٹ جیسے
روشنی چھنتی ہوئی آس کے کاشانے سے
کوئی بھولے سے کھلا چھوڑ گیا پٹ جیسے
شاذؔ نغموں پہ شبِ وصل کا نور اترا ہے
اس کی پیشانی پہ بالوں کی کوئی لٹ جیسے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست