عقل بڑی یا بھینس

قتیل شفائی


ایک تھا راجہ مہدی علی خاں ایک تھی اس کی رانی
رانی کی اک ماں تھی یعنی بچہ لوگ کی نانی
کرنا خدا کا ایسا ہوا اک روز کوئی ہمسایہ
راجہ کے دربار میں اک چھوٹی سی چوہیا لایا
دیکھا جب اس چوہیا کو حیران ہوئے درباری
پیتی تھی وہ کوکو کولا کھاتی تھی ترکاری
انگریزی میں باتیں کر کے فلمی گانے گاتی
رنگ برنگے ڈانس دکھا کر سب کا جی بہلاتی
پردے سے یہ منظر دیکھا جب رانی کی ماں نے
سوچا ہمسائے سے لے لے چوہیا کسی بہانے
بڑھیا نے سر پیٹا اپنا خوب کیا واویلا
اوڑھ لیا پھر وہ دوپٹہ رنگ تھا جس کا میلا
کہنے لگی چلا چلا کر راجہ تیری دہائی
یہ ہے میرا چور کہ اس نے میری بھینس چرائی
چھین لو اس سے بھینسیں میری اور منہ پر مارو چانٹا
دیکھو دیکھو سوکھ کے میری بھینسیں ہوئی ہے کانٹا
راجہ مہندی علی خاں جو تھے راجاؤں کے راجہ
کام نہ کچھ بھی کرتے آٹھوں پہر بجاتے باجا
گرج کے بولے او مردود بتا کیوں بھینس چرائی
ہم نے تو اس بھینس کے آگے برسوں بین بجائی
راجہ کی یہ بات سنی تو کہنے لگا ہم سایا
جیے وہ ساس کہ چوہیا کو بھی جس نے بھینس بنایا
راج ہے تیرا اس نگری میں خوب سزا دے مجھ کو
عقل بڑی یا بھینس بس اتنی بات بتا دے مجھ کو
 
فہرست