میرؔ جی رازِ عشق ہو گا فاش

قیوم نظر


جائیں گھڑ دوڑ پر کہ کھیلیں تاش
میرؔ جی رازِ عشق ہو گا فاش
پتھروں میں لگا رہے ہیں جونک
چاند میں خونِ گرم کی ہے تلاش
یوں جھگڑتے ہیں جھوٹی قدر وں پر
زن فاحش پہ جس طرح اوباش
نئے انداز سے حنوط ہوئی
اب نہ بو دے گی زندگی کی لاش
اڑ گیا بھاپ بن کے دل کا لہو
اب زمیں دور ہے قریب آکاش
ہوئے مفلوج وہ بھی جن کے لیے
ایک عالم تھا بر سر پرخاش
لالۂ کوہ کو دماغ نہیں
نشہ لاتی ہے مختلف خشخاش
کیسے بھوکوں مریں گے اتنے لوگ
بے ہدہ عہدِ نو میں فکر‌ قماش
ہفت اقلیم کے خزانوں پر
ہاتھ ڈالیں گے ان گنت قلاش
اب نہ آیا حصار سے باہر
نقش میں خود ہی ڈھل گیا نقاش
رشکِ گل ہوں کہ مثل نشتر ہوں
یہی ناخن نظرؔ میں زخم تراش
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست