یہی تو ہیں جو ڈبویا کیے سفینوں کو

مجروح سلطان پوری


ڈرا کے موج و تلاطم سے ہم نشینوں کو
یہی تو ہیں جو ڈبویا کیے سفینوں کو
شراب ہو ہی گئی ہے بقدر پیمانہ
بہ عزم ترک نچوڑا جب آستینوں کو
جمال صبح دیا روئے نو بہار دیا
مری نگاہ بھی دیتا خدا حسینوں کو
ہماری راہ میں آئے ہزار مے خانے
بھلا سکے نہ مگر ہوش کے قرینوں کو
کبھی نظر بھی اٹھائی نہ سوئے بادۂ ناب
کبھی چڑھا گئے پگھلا کے آبگینوں کو
یہی جہاں ہے جہنم یہی جہاں فردوس
بتاؤ عالمِ بالا کے سیربینوں کو
ہوئے ہیں قافلے ظلمت کی وادیوں میں رواں
چراغِ راہ کیے خوں چکاں جبینوں کو
تجھے نہ مانے کوئی تجھ کو اس سے کیا مجروحؔ
چل اپنی راہ بھٹکنے دے نکتہ چینوں کو
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست