موسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہے

مجروح سلطان پوری


خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
موسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہے
راس آئے تو ہے چھاؤں بہت برگ و شجر کی
ہاتھ آئے تو ہر شاخ ثمر ریز بہت ہے
لوگو مری گل کاری وحشت کا صلہ کیا
دیوانے کو اک حرفِ دل آویز بہت ہے
منعم کی طرح پیر حرم پیتے ہیں وہ جام
رندوں کو بھی جس جام سے پرہیز بہت ہے
مصلوب ہوا کوئی سرِ راہ تمنا
آوازِ جرس پچھلے پہر تیز بہت ہے
مجروحؔ سنے کون تری تلخ نوائی
گفتار عزیزاں شکر آمیز بہت ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست