شام کا وقت ہے ۔ ریل گاڑی ایک پہاڑی علاقے میں فراٹے بھرتی ہوئی جا رہی ہے ۔ درمیانے درجے کے چھوٹے سے ڈبے میں چند مسافر بیٹھے ہیں ۔ تین آدمی ایک طرف بیٹھے باتیں کر رہے ہیں ۔
تصویر حسین، منجن بیچنے والا : عمر تقریباً 40 سال
عبدل : عمر تقریباً 30 سال
(سفر کر رہا ہے ۔ راستے میں اس کا گاؤں پڑتا ہے ۔ احمد اور فیاض، عبدل کے گاؤں میں رہتے ہیں، لیکن وہ دونوں عبدل سے ناواقف ہیں ۔)
احمد : میاں یہ تو کہنے کی باتیں ہیں
فیاض : بس جی آپ نے سو باتوں کی ایک بات کہی ہے ۔
آئے دن کہیں جانا نکلنا ہی رہتا ہے
نیل کنٹھ کوئی ایسی چیز نہیں
ہم نے تو کبھی دھیان دیا ہی نہیں ۔۔۔
احمد : بھلا آج کل کے زمانے میں!
مولوی صاحب : تم مری عمر کو پہنچو گے تو پھر پوچھوں گا
تم نے دیکھا ہی ابھی کیا ہے ؟
فیاض : آپ نے اک دنیا دیکھی ہے
ٹھیک ہے ! لیکن آپ ہی سوچیں کیا یہ وہم نہیں ہے ؟
احمد : دیکھیے نا! ادھر کس قدر دھوپ ہے !
آپ ادھر میرے نزدیک آ جائیں
فیاض : مولوی صاحب آپ یہاں آ جائیں!
اس کھڑکی کے پاس ذرا آرام سے بیٹھیں!
مولوی صاحب : تم مرا غم نہ کرو
میں جہاں بھی ہوں وہیں اچھا ہوں!
فیاض : حضرت آپ تو سچ مچ روٹھ گئے ہیں
مولوی صاحب : ابھی لونڈے ہو میاں! بات تو کرنا سیکھو!
میں نے تجھ سے کئی لونڈے دیکھے !
تیرے ابا کے بھی ابا کا زمانہ دیکھا
میں نے تو ایک صدی دیکھی ہے !
فیاض : دیکھیے حضرت! ابا وبا رہنے دیں بس
مولوی صاحب : بس مرے منہ نہ لگو
فیاض : دیکھیے صاحب! آپ زبان سنبھال کے بولیں
چٹی داڑھی کی عزت کرتا ہوں ورنہ!
مولوی صاحب : میں کہا چپ رہو بس ۔۔۔
احمد : چار دن کتنی جھڑیاں لگیں پھر بھی گرمی کی شدت وہی ہے !
فیاض : سورج پور! بس اگلے اسٹیشن سے آگے
عبدل ذرا دور کونے میں کھڑکی کی طرف بیٹھا ہے ۔ وہ سورج پور کا نام سنتے ہی چونک پڑتا ہے اور پھر کسی خیال میں کھو جاتا ہے ۔
احمد : ارے پھر تو اک ساتھ اتریں گے
فیاض : سورج پور اب تھوڑی دور ہی ہو گا!
احمد : نہیں! گھر پہنچتے پہنچتے ہمیں رات پڑجائے گی
فیاض : آج تو ساتویں رات ہے خاصاچاند نا ہو گا
ٹھنڈے ٹھنڈے گھر پہنچیں گے
احمد : آپ کو میں نے پہلے بھی دیکھا ہے ؟
فیاض : دیکھا ہو گا! نویں شہر میں دیکھا ہو گا!
میں بھی آپ کی صورت تو پہچان رہا ہوں
احمد : نویں شہر میں کچھ مہینے ہوئے میں نے بنگلہ لیا ہے
وہاں میرے بھائی کا لڑکا ہے
ارے ہیں! یہ گاڑی کی رفتار کو کیا ہوا؟
ریل گاڑی ایک ننھے سے اسٹیشن پر رک جاتی ہے ۔ کچھ مسافر رنگ برنگے کپڑے پہنے ایک ڈبے کی طرف تیزی سے دوڑتے ہیں ۔ سورج ڈوب رہا ہے ۔ پھیری والوں اور مسافروں کی ملی جلی آوازیں اور انجن کی شائیں شائیں فضا کو خاموش کر دیتی ہے ۔
پہلی آواز : پا ن بیڑی سگرٹ
فیاض : بیڑی والے ! او میاں بیڑی والے !
پہلی آواز : بابو جی! یہ سید پور ہے !
دوسری آواز : سو -- ڈا ---- بر--ف ---- لے من سو -- ڈا
فیاض : سگرٹ والے ادھر تو آنا؟
جلدی! بھاگ کے ! گولڈ فلیک کی ڈبیا دینا
چار پان بھی! باقی پیسے واپس کر دو
(احمد کی طرف دیکھ کر) چائے پییں گے ؟
احمد : نہیں اب تو گھر ہی پہنچ کر پییں گے !
آوازیں : بیرا گڈی چلنے لا گی دوڑ کے آ جا
چھجو چاچا میرا بکسا کھڑکی ماں تے پھینک دے جلدی
گاڑی چھوٹتی ہے ۔ فیاض، احمد کے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے ۔ ایک منجن بیچنے والا دو چھوٹی چھوٹی شیشیاں ہاتھ میں لے کر آواز لگاتا ہے ۔ عبدل کھڑکی کی طرف منہ کیے خاموش بیٹھا ہے ۔
فیاض : یہ تصویر حسین یہاں بھی آ دھمکا ہے
اس کی بات پہ دھیان نہ دینا
تصویر حسین : اے دوستو لایا ہوں بڑی دور سے منجن
دندانِ مبارک پہ لگا لو مرا منجن
ریل گاڑی سے باہر لوں گا ایک روپیہ!
ہے کوئی بھائی! آٹھ آنے میں
مولوی صاحب : ’’بتوں کی چاہ گئی ہو برا ضعیفی کا
ادھر تو پک گئے بال اور ادھر سدھارے دانت‘‘
جاؤ اب آگے سے رستہ چھوڑو!
تصویر حسین : جاتا ہوں چلا جاتا ہوں بگڑو نہیں بابا
اے دوستو لایا ہوں بڑی دور سے منجن
دندانِ مبارک پہ لگا لو مرا منجن
فیاض : (آہستہ سے ) میں تو جانوں یہ پھڑباز ہے !
مفت میں آٹھ آنے کیوں کھوئیں؟
احمد : میاں آٹھ آنے کے سگرٹ پییں گے !
تصویر حسین : چھک بابا پیسہ لے جا
آٹھ آنے میں! ہے کوئی لینے والا بھائی!
ایک آواز : یہ لو اٹھنی! ایک شیشی دے دینا بھائی!
دوسری آواز : ایک شیشی ادھر کو بھی لانا
تصویر حسین : منجن میرا سب سے نرالا
آپ۔۔۔ جناب۔۔۔ آپ -- اور آپ ۔۔۔
فیاض : لیجیے سگرٹ پیجیے !
احمد : شکریہ میں ابھی پی چکا ہوں
نویں شہر میں آپ کا گھر کہاں ہے ؟
فیاض : وہاں تو اپنا کاروبار ہے
پچھلے دنوں ہی بھائی نے ہوٹل کھولا ہے !
اب اچھا خاصا چلنے لگا ہے !
سورج پور میں اپنا گھر ہے ۔
اونچی مسجد سے کچھ آگے وہ جو عظمت منزل ہے نا!
عبدل : (سوچتا ہے ) یہ فیاض ہے ! عظمت منزل والوں کا وہ منجھلا لڑکا!
احمد : کچھ مہینے ہوئے میں نے بستی سے دو میل پر پانچ ایکڑ لیے تھے
وہ عبدل ۔۔۔ وہی کنچ گھر پھر چلایا ہے ہم نے !
فیاض : اچھا اچھا اب میں سمجھا
احمد : تو کیا آپ اکبر سے واقف ہیں؟
فیاض : کام تو اچھا خاصاہے پر کاریگر ملنے مشکل ہیں
احمد : اجی اپنے قصبے میں بے کار لوگوں کا توڑا ہے !
ان کو سکھالیں گے ، بس دو مہینے کا قصہ ہے
چھ سال کے بعد اس کنچ گھر کو چلایا ہے
منت سے انجینئر کو منایا ہے
کیا آپ عبد ل سے واقف ہیں؟
فیاض : مدت گزری! برسوں گزرے !
میں تو اس کے بعد آیا تھا۔
ابا جی نے خط لکھا تھا ان کے بلا نے پر آیا ہوں
میں بھی اب تو بڑے سے کام کی سوچ رہا ہوں
یہ احمد ہے ! اکبر میرے دوست کا ساتھی!
کبھی کبھی یہ اکبر سے ملنے آتا تھا
اکبر میرا دوست مجھے کیا بھول گیاہے ؟
اکبر، حسنی دونوں ساتھی سوچتے ہوں گے !
میں اور نندی دونوں جل کر ۔۔۔
آپ بھی اب نویں شہر میں گھر بنالیں
فیاض : جی ہاں! اپنا ارادہ تو پکا ہے
پھول گلی میں پچھلے برس دوقطعہ زمین لیے تھے
اب تو نیویں کھدنے لگی ہیں
اللہ کو منظو رہوا تو گھر بھی جلدی بن جائے گا!
احمد : اب تو چاروں طرف سے وہاں لوگ بسنے لگے ہیں
نئی طرز کی کوٹھیاں بن رہی ہیں
کھلی صاف شیشہ سی سڑکیں ہیں
سڑکوں کے دونوں طرف سنگتروں کے درختوں کا اک سلسلہ ہے
فیاض : سورج پور اب پھر نہ بسے گا
آج سے سات برس پہلے جب اس جنگل کو آگ لگی تھی
وہ دن اپنے گاؤں کی بربادی کا دن تھا
احمد : جہاں کمیوں کے مکاں تھے وہاں ڈاک خانہ بنا ہے
فیاض : ہاں جی! اپنے دیکھتے دیکھتے دنیا کتنی بدل گئی ہے ؟
جہاں وہ اینٹوں کا بھٹہ تھا
جلے ہوئے جنگل کے ٹھنٹھ پڑے تھے
احمد : جہاں وہ پرانا کنواں تھا وہاں بجلی گھر بن گیا ہے !
عبدل : (نندی سے اپنی آخری ملاقات اس کی آنکھوں میں پھر جاتی ہے )
اسی کنویں پر سانجھ سویرے کھیلنے آتے
وہ میلہ! ۔۔۔ وہ ناچ کتھا!
پھر چیت کا میلہ آیا۔۔۔ من بھایا۔ ہو آیا۔
سورج پور اب پھر نہ بسے گا!
سورج پور ۔۔ ۔۔ وہ آگ کی نگری!
وہ اندھیاری رات۔ وہ جنگل!
کہاں ہو نندی؟ یاد ہیں وہ دن؟
جب ہم چھوٹے چھوٹے سے تھے !
میں اور حسنی کھیل رہے تھے