سورج پور کے زمیندار حشمت کا لڑکا عبدل اور اس کا منہ بولا بھائی حسنی دونوں اپنے مکان کے صحن میں کھیل رہے ہیں ۔
بلھا : سورج پور کے نمبردار کا لڑکا۔ عمر 9 سال
نندی : بلھے کی بہن عمر 6 سال
پپو گھر کے صحن میں سے گاتا ہوا باہر ڈیرے میں آ جاتا ہے ۔
پپو : تو چل قمری میں آتا ہوں
(پپو حسنی کو آواز دیتا ہے )
گٹی : ابے کیا ہے ؟ کیوں کان کھائے ہیں؟
پ : (بند مٹھی کو دور سے دکھا کر آواز دیتا ہے )
گ : (دوڑا ہوا پپو کے پاس آ کر پوچھتا ہے )
پ : نا بھیا جی تم ہی بوجھو!
پ : ایسی ویسی چیز نہیں ہے !
گ : بھلا تجھ سے میں ہار مانوں!
ذرا اپنی مٹھی کو سورج کے آگے تو لانا!
بتاتا ہوں بس میں ابھی بوجھتا ہوں!
پ : اتا پتا بھی اس کا سن لو
گ : ابے تو دکھاتا ہے یا مارکھائے گا:
پ : پہلے میرا ہاتھ تو چھوڑو!
گ : (دوڑ کر اسے پکڑ لیتا ہے )
ابے سل کھٹیے بتا دے نہیں تو!
پ : پہلے اپنی آنکھیں میچو!
گ : ارے بس یہی چیز تھی نا!
پپو! وہ بندر ادھر آ رہا ہے !
وہ بندر تجھے کاٹ کھائے گا۔
کٹو کیکر کے تنے پر سے بار بار اترتی ہے ۔ سڑک کے درمیان تک آتی ہے اور پھر بندروں کے ڈر سے یا کوئی آہٹ سن کر لوٹ جاتی ہے ۔
گ : ارے او لٹونی کہاں جا رہا ہے !
پ : وہ کٹو نہیں آتی بھیا!
گٹی سڑک کی طرف دیکھ کر زور زور سے آواز دیتا ہے ۔ اس کا دوست بلھا اپنی بہن نندی کے ساتھ آ رہا ہے ۔
یہاں آؤ! نندی ادھر! ہم یہاں ہیں!
پ : بلھا بھی تو ساتھ ہے بھیا!
میں اس سے نہیں بولوں گا جی!
گ : ابے چپ رہو وہ مرا دوست ہے ۔
بلھا : ہم گھر چلے ہیں گٹی!
(بہن کو غصے میں آواز دیتا ہے )
پ : دیکھو نندی! یہ کیا چیز ہے ؟
رنگ رنگ کی کنکیاں ہیں یہ!
بلھا : بیٹھا رہ چپکا ہو کر
نندی : نابھیا جی پپو جی کو کچھ نہ کہنا!
نندی : پپو جی ہم کل آئیں گے !
پپو : ٹھہرو! نندی وہ دیکھو وہ کٹو آئی!
بلھا، نندی کا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے گزر جاتا ہے اور کٹو پھر واپس جا کر کیکر کے تنے پر چڑھ جاتی ہے ۔ بندر شور مچاتے ہیں ۔