ایک ایسی دنیا میں قدم رکھیں جہاں معروف پاکستانی اردو ناول نگار رفاقت حیات بے باکی سے مضافاتی زندگی اور محبت اور سماجی پابندیوں کی پیچیدگیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔
اندھیرے جنگل میں عبدل، نندی کو ڈھونڈتا ہے لیکن نندی کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ عبدل تھک ہار کر ایک گھنے درخت کے تنے کے سہارے حیران کھڑا ہو جاتا ہے ۔ خاصی رات ہو گئی ہے ۔ وہ نندی کے خیال میں کھوجاتا ہے ۔
عبدل : ٹھہرو نندی!
ٹھہرو نندی کہاں چلی ہو؟
رستہ بھول نہ جانا!
نندی : کنویں میں نہ جھان کو!
عبدل : وہ دیکھو وہ ریت پہ بڑھیاں دوڑ رہی ہیں!
اکبر : میں کنچ گھر جا رہا ہوں عبدل!
تمھارا پیغام بھیج دوں گا
بڑی اندھیری ہے آج کی شام
آندھی آئے گی!
نندی : ادھر گرد سی اڑ رہی ہے
چلو اس بنی کے درختوں میں چھپ جائیں
رات ہو گئی ہے
(اتنے میں لوگوں کا شور سنائی دیتا ہے اور وہ جنگل کو آگ لگا دیتے ہیں )