آدھی رات گزر چکی ہے ۔ جنگل کی آگ کے شعلے ابھی تک بھڑک رہے ہیں ۔ گاؤں بھر میں شور برپا ہے ۔ عبدل ویران رستوں میں گرتا پڑتا، چھپتا چھپاتا گھر آتا ہے اور طویلے میں سے اپنے باپ کے کمرے میں جھانکتا ہے ۔ عبدل کے ماں باپ آپس میں گفتگو کر رہے ہیں ۔
نصیبن : عبدل کی ماں (عمر 60 سال)
حشمت : عبدل کا باپ ( عمر 70 سال)
(عبدل کھڑکی میں سے سب ماجرا دیکھ رہا ہے )
حشمت : تو کیا یہ بے ہوئی ہے ؟
نصیبن : ان حویلی والوں کے کیڑے پڑیں
ہفت رنگن نے مرے لونڈے کو پاگل کر دیا
حشمت : غضب ہے ، قہر ہے جی!
اس بڑھاپے میں یہ دن بھی دیکھنا تھا
میں تو اس جینے سے بھر پایا ہوں یا رب
تو اٹھا لے اب مجھے جلدی اٹھا لے
اس بڑھاپے میں یہ صدمہ کوئی دشمن بھی نہ دیکھے
نصیبن : میرے اللہ لٹ گئی میں
پوت کا ہے کو جنا تھا سانپ تھا
تم کو اس دن کے لیے پالا تھا عبدل!
واہ بیٹا! تم نے اپنے خانداں کا نام روشن کر دیا
باپ دادا کے زمانے کا یہ جنگل ایک دم میں پھونک ڈالا
حشمت : کبھی ہم پر بھی آئی تھی جوانی؟
نصیبن : نہ ہوا اس وقت میری ماں کا جایا
دیکھ لیتی ان زمینداروں کا مان!
میرے بیٹے کو اگر کچھ ہو گیا تو شیرمے پی لوں گی ان کے !
تمھارے پیار نے کھویا ہے اس کو
نصیبن : کوئی اس دے دے پھٹی کو پوچھنے والا نہیں
وہ کنویں پر کیوں گئی تھی؟
عبدل سب باتیں سن رہا ہے ۔ کبھی وہ بوڑھے ماں باپ کی طرف دیکھتا ہے اور کبھی بدنامی کا ڈر اسے ستاتا ہے ۔ نندی کے بعد وہ اب گاؤں میں ٹھہرنا نہیں چاہتا۔
نندی! میرے ارمانوں کا آخری سنگم!
اس کی جڑیں اب سوکھ چکی ہیں
اس کے پھل کو اندر سے کیڑوں نے چاٹ لیا ہے
اب اس پھل میں رس نہ پڑے گا
دور کسی جنگل میں ڈال بسیرا