سورج ڈوب رہا ہے ۔ گاڑی پوری رفتار سے چل رہی ہے ۔ عبدل کھڑکی کی طرف بیٹھا سوچ رہا ہے ۔ گاڑی کبھی کبھی سرنگ میں سے یا کسی پل پر سے گزرتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے ۔ احمد اور فیاض دوسری طرف باتیں کر رہے ہیں ۔
عبدل : (کھڑکی کے باہر چیزوں کو دیکھ کر سوچتا ہے )
رنگ برنگے ذرے بھورے بھورے پتھر
پیلی کرنیں کیکر کی سیڑھی سے اتر رہی ہیں
کالے ناگ سنہری جیب نکا لے !۔۔۔
آڑی ترچھی کالی زرد لکیریں!۔۔۔
پتھر کے سینے سے چشمے پھوٹ رہے ہیں
بھو کی گائیں ---- ان کے تھنوں میں دودھ نہیں ہے
سانجھ سے پہلے اس پر تالے پڑ جاتے ہیں
کو ن اب اس کی مہریں توڑے !
یہ دھرتی اب سارے بندھن توڑ چکی ہے
ایک کرن پھر وقت کی سیڑھی سے اتری ہے
لیکن میں تو ---- اس دھرتی میں میرا کوئی نہیں ہے
سات برس کے بعد یہاں سے پھر گزرا ہوں
اس دھرتی سے میرا ناتا ٹوٹ چکا ہے
اپنے وقت کا اک اک ساتھی چھوٹ چکا ہے
مرے بھائی باہر ہوا چل رہی ہے
فیاض : ذرا گلاس تو بھرنا بھائی!
پیاس لگی ہے ---- سارا دن میں کتنے گلاس انڈیل چکا ہوں
یہ شیشے کی صراحی تم نے کہاں سے لی ہے ؟
یہ مال تو باہر کا لگتا ہے مجھ کو
احمد : یہ سب اپنے ہی کنچ گھر میں بنی ہیں
کبھی آپ آئیں تو باہر کی صنعت گری بھول جائیں
فیاض : پانی تو خاصا ٹھنڈا ہے !
میں گرمی میں پانی ذراکم ہی پیتا ہوں
فیاض : وہ دیکھو کھڑکی سے باہر
نقرے پر اک لڑکا سرپٹ دوڑ رہا ہے !
احمد : چال تو خوب چلتا ہے
لیکن سوار اس کا بالکل اناڑی ہی لگتا ہے
فیاض : ہاں کچھ ایسا ہی قصہ ہے
اپنے پاس بھی دو گھوڑے ہیں
میں نے انہیں بچوں کی طرح سے پالا ہے ۔۔۔
احمد : مرے پاس بھی ایک چینا ہے
بڑا ہی مبارک ہے یہ چینا گھوڑا
مرے پاس جس دن سے ہے یوں سمجھ لو کہ بس لکشمی آ گئی
اگلے وقتوں کے لوگوں کی خوش فہمی ہے
احمد : پرانی حویلی کے گھوڑے ---- مگر وہ تو اجڑی پڑی ہے
فیاض : حشمت کا ڈیرہ بھی اب سنسان پڑا ہے
احمد : بعض گھوڑا تو سچ مچ ہی منحوس ہوتا ہے
فیاض : ہم نے اپنی ساری عمر میں رنگ رنگ کے گھوڑے پالے
چمبا، نقرا، خاکی، چینا، کالا اور کمیت
گھوڑا تو بس قسمت والے کو ملتا ہے
اس کے کانوں سے جنت کی ہوا آتی ہے
اس کی ٹاپ سے دھرتی کا دل کانپ اٹھتا ہے
احمد : مگر کالے گھوڑے کی کیا بات ہے !
تم نے دیکھا ہے شاید وہ گھوڑا
فیاض : اس خطے کا کون سا گھوڑا مجھ سے چھپا ہوا ہے
اس میں کوئی گن ہوتا تو میں کب چھوڑ نے والا تھا
جی وہ تو فوج کا کنڈم مال ہے
دیکھنے میں تصویر ہے لیکن ناکارہ ہے
وہ گھوڑا تو بڑا خونخوار ہے !
احمد : تمھیں یاد ہو گا کہ گھوڑوں کے میلے میں پچھلے برس
گاؤں کے چودھری جی نے للکار کے شرط باندھی
کہ اس کالے گھوڑے پہ جو بھی سواری کرے گا
تمھیں یاد ہے نا! کہ اکبر سے پتلے چھریرے بدن
کا جواں اس کو اک آن میں لے اڑا تھا
ارے یہ پنہ گیر لڑکا تو آفت کا پتلا ہے
دیکھو تو بھولا سا معصوم سا ہے
فیاض : گنی ونی تو کیا ہے بس قسمت کا دھنی ہے
احمد : اب تو اکبر نے مونا سے شادی بھی کر لی ہے
فیاض : لیکن اس میں ایک ہی کھوٹ ہے
وہ تو کھلے بندوں بے پردہ پھرتی ہے
یہ سب باتیں اپنے کو تو کھلتی ہیں
احمد : اجی اب تو نقشہ ہی کچھ اور ہے
وہ زمانہ گیا یہ نئی روشنی ہے
وہ نندی بھی تھی! آگ میں جل بجھی
فیاض : وہ بے چاری زندہ رہ کر بھی کیا کرتی!
اس کی قسمت میں جل مرنا ہی لکھا تھا
احمد : تو وہ آگ کس نے لگائی تھی؟
عبدل نے ! ---- نندی کے بھائی نے ! ---- حسنی نے !
فیاض : میاں جتنے منہ اتنی ہی باتیں
اللہ جانے تہہ میں کیا ہے ؟
احمد : یہ سارے زمیندار ایسے ہی ہیں
لوگ کہتے ہیں جنگل انھوں نے جلایا
مگر گاؤں والوں کو نندی کے بھائی پہ شک ہے
فیاض : میں اس روز وہیں تھا
اپنے گاؤں میں تھا، بس کھانا کھانے ہی بیٹھا تھا
میں سمجھا کہ ساتھ کے گاؤں نے ہلہ بول دیا ہے
ننگے بدن گھوڑے پہ الانا چڑھ کے نکلا
تین کوس سے آگ کی لاٹیں چمک رہی تھیں
ڈیرے والے بھرے طمنچے اور بندوقیں لے کر نکلے
گھوڑے سوار مشالیں لے کر بھاگ رہے تھے
احمد : تعجب ہے عبدل کہاں تھا؟
وہ نندی تو جل ہی گئی تھی!
فیاض : آگ کے بہتے دریاؤں میں
اس کی چیخیں ہم نے سنی ہیں
احمد : میں نے وہ رات دیکھی ہے جب آسماں سرخ تھا!