بدلا نہیں کوئی بھیس ناچاری سے

اسماعیل میرٹھی


بدلا نہیں کوئی بھیس ناچاری سے
بدلا نہیں کوئی بھیس ناچاری سے
ہر رنگ ہے اختیار سرکاری سے
بندہ شاہد ہے اور طاعت زیور
یہ سانگ بھرا گیا ہے عیاری سے
 
مفعول مفاعلن مفاعیلن فِع
ہزج مثمّن اخرب مقبوض ابتر(رباعی)
فہرست