ذکر اس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم

ماجد صدیقی


آج تک جس شخص کی نظروں میں تھے معتوب ہم
ذکر اس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم
روز جینے کا نیا اک تجربہ درپیش ہے
روز اک سولی پہ ہوتے ہیں یہاں مصلوب ہم
کھل کے آنا ہی پڑا آخر سر میداں ہمیں
یوں تو رہنے کو رہے ہیں مدتوں محجوب ہم
وہ کھلی آنکھوں سے ہم کو دیکھتا ہی رہ گیا
ضد پہ اترے بھی تو اک دن اس سے نپٹے خوب ہم
شوخی طرزِ بیاں الزام کیا کیا لائے گی
جانے کس کس شوخ سے ٹھہریں گے کل منسوب ہم
یہ بھی گر شرط سخن ٹھہری تو ماجدؔ ایک دن
شاعری کرنے کو ڈھونڈیں گے کوئی محبوب ہم
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست