اس سا لیکن کوئی آشنا بھی نہ تھا

ماجد صدیقی


اجنبی تھا وہ مجھ سے ملا بھی نہ تھا
اس سا لیکن کوئی آشنا بھی نہ تھا
اس اندھیرے میں کیسے وہ پہنچا یہاں
دل میں میرے تو جلتا دیا بھی نہ تھا
کھل گئی جانے کیسے زباں خلق کی
اس سے رشتہ کوئی برملا بھی نہ تھا
جانے وہ ہم سے کیوں جھینپتا رہ گیا
بھید اس پر ہمارا کھلا بھی نہ تھا
حق بجانب تھا مجھ سے وہ اغماض میں
اس سے میرا کچھ ایسا گلہ بھی نہ تھا
ہاں بجا ہے وہ اچھا نہ ہو گا مگر
تیرا ماجدؔ کچھ ایسا برا بھی نہ تھا
فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن
متدارک مثمن سالم
فہرست