اترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا

ماجد صدیقی


آتا ہے یاد اب بھی سراپا وہ خواب سا
اترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا
اقرار مدعا پہ ٹھٹکتے ہوئے سے ہونٹ
آنکھوں پہ کھنچ رہا تھا حیا کا نقاب سا
اس کو بھی ان کہی کے سمجھنے میں دیر تھی
کہنے میں کچھ مجھے بھی ابھی تھا حجاب سا
تھی اس سے جیسے بات کوئی فیصلہ طلب
تھا چشم و گوش و لب کو عجب اضطراب سا
تھا حرف حرف کیا وہ نگاہوں پہ آشکار
منظر وہ کیا تھا مدِ مقابل کتاب سا
ماجدؔ نگاہ میں ہے وہ منظر ابھی تلک
جب سطح آرزو پہ پھٹا تھا حباب سا
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست