ہر گل کو ہم نے یوں بھی تمہارا پتہ دیا

ماجد صدیقی


آئینۂ خیال بہ دستِ صبا دیا
ہر گل کو ہم نے یوں بھی تمہارا پتہ دیا
فرصت تمہاری دید نے دی جب بھی درد سے
اک چاند جگمگا اٹھا اک چاند بجھ گیا
کر دیں یہ کس نے ذہن پہ عریاں حقیقتیں
کہرام سا یہ کس نے نظر میں اٹھا دیا
ماجدؔ ہو اس سے شکوہ بہ لب تم جوہر نفس
سوچو تو زندگی کو ابھی تم نے کیا دیا
فہرست