دل درد سے ہمکنار بھی ہے

ماجد صدیقی


آنکھوں میں ترا دیار بھی ہے
دل درد سے ہمکنار بھی ہے
پت جھڑ کا سکوت ہے لبوں پر
ہمراہ مرے بہار بھی ہے
تو میری نظر میں اجنبی بھی
ملنا ترا یادگار بھی ہے
میں تیرے لیے ہوں مانتا ہوں
مجھ کو غمِ روزگار بھی ہے
جیتا ہوں کہ جی رہا ہوں ماجدؔ
جینا ہے کہ ناگوار بھی ہے
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست