اب کے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی

ماجد صدیقی


خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی
اب کے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی
ایسی کیوں ہے آنکھ نہیں بتلا سکتی
نندیا ہے کہ گرانی سے ہے بوجھل سی
لا فانی ہے یہ تو کتابیں کہتی ہیں
روح نجانے رہتی ہے کیوں بے کل سی
رات کا اکھوا ہے کہ نشان بدامنی
دور افق پر ایک لکیر ہے کاجل سی
منظر منظر تلخ روئی ہے وہ ماجد
اتری لگے جو آنکھوں آنکھوں حنظل سی
فہرست