جی میں ہے پایۂ عرش کو تھام لوں

ماجد صدیقی


دیکھیے یہ بھی اک اختراع جنوں
جی میں ہے پایۂ عرش کو تھام لوں
ہے یہی طرۂ امتیاز جنوں
میں جو روؤں تو پھر مسکرا بھی سکوں
پیار آتش سہی پر یہ کیا شرط ہے
چاندنی رات میں بھی سلگتا رہوں
یہ روش بھی کچھ ایسی بری تو نہیں
چوٹ کھاؤں مگر مسکراتا رہوں
احترام شبِ وصل ہو گر مجھے
میں شبِ ہجر کا نام تک بھی نہ لوں
مجھ کو بھی حق پہنچتا ہے ماجدؔ کہ میں
ساتھ پھولوں کے مہکوں گلستاں بنوں
فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن
متدارک مثمن سالم
فہرست