چھوڑتا ہی نہیں اندیشۂ جاں

ماجد صدیقی


دل پہ چھایا ہے وہ احساس گراں
چھوڑتا ہی نہیں اندیشۂ جاں
جب بھی گزرے ہیں تری یاد میں دن
کھل اٹھے پھول سرِ جوئے رواں
سونا سونا ہے نظر کا دامن
چھپ گیا ہے وہ مرا چاند کہاں
شعلۂ گل سے دیے تک ماجدؔ
اٹھ رہا ہے مری آہوں کا دھواں
فاعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مسدس مخبون محذوف مسکن
فہرست