اور خیمے دمِ رخصت یہ، اڑاتے جانا

ماجد صدیقی


دل میں آنا تو بہاروں سا سماتے جانا
اور خیمے دمِ رخصت یہ، اڑاتے جانا
ہر خط جسم کو اس طرح اجاگر کرنا
ہر رہِ زیست مقابل کی مٹاتے جانا
اک تو پہلے ہی سراپا ہے قیامت جیسا
اس پہ ترشے ہوئے ملبوس سجانے جانا
کھینچ کر تارِ نظر خود متوجہ کرنا
کوئی دیکھے تو تغافل بھی جتاتے جانا
دعوت لمس بھی تتلی سی ہر اک پل دینا
اور بڑھیں ہاتھ تو چکر سا دلاتے جانا
کس کا قصہ لیے بیٹھے ہو یہ ماجدؔ صاحب
کس کی خاطر ہے یہ ہر بات بڑھاتے جانا
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست