پوچھنا حالِ سفر بھی ہوش میں آنے تو دو

ماجد صدیقی


دھوپ میں جھلسا ہوں میں کچھ دیر سستانے تو دو
پوچھنا حالِ سفر بھی ہوش میں آنے تو دو
دیکھنا ابھروں گا پہلو میں یدِ بیضا لیے
ظلمتِ شب میں ذرا مجھ کو اتر جانے تو دو
نطق ہونٹوں سے مرے پھوٹے گا بن کر چاندنی
میری آنکھوں سے یہ چپ کا زہر بہہ جانے تو دو
جز ادائے سجدۂ بے چارگی کر لے گا کیا
موجۂ سیلاب کو دہلیز تک آنے تو دو
پھر مری صحنِ گلستاں میں بحالی دیکھنا
اک ذرا یہ موسم بے نم گزر جانے تو دو
ٹھیک ہے ماجدؔ فسانے تھیں تمہاری چاہتیں
یہ فسانے پر ہمیں اک بار دہرانے تو دو
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست