کوئی تو راہ کا پتھر بھی اب دکھاؤ مجھے

ماجد صدیقی


دلا دیا ہے جو سیلاب سا بہاؤ مجھے
کوئی تو راہ کا پتھر بھی اب دکھاؤ مجھے
بہت سے نقش ہیں تشنہ ابھی مصور حسن
یہ جگ ہنسے گا ابھی سامنے نہ لاؤ مجھے
نکل گیا ہوں سلامت ہی حادثوں سے تو میں
چتا میں رکھ کے نہ یادوں کی اب جلاؤ مجھے
ادھر ہیں لوگ نگاہوں میں جن کی راکھ ہوں میں
ادھر ہو تم کہ بتاتے ہو اک الاؤ مجھے
تناوری پہ مری بس کہاں وجود مرا
اتر بھی جاؤ جو پاتال تک نہ پاؤ مجھے
پیمبر گلِ تر ہوں غزل ہوں ماجدؔ کی
نظر پڑوں تو کبھی آ کے گنگناؤ مجھے
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست