ہماری سمت ہوا رخ بھری خدائی کا

ماجد صدیقی


ذرا سا ہم پہ تھا الزام حق سرائی کا
ہماری سمت ہوا رخ بھری خدائی کا
ظہور آب ہے محتاج جنبش طوفاں
کہ اتنا سہل اترنا کہاں ہے کائی کا
یہ اختلاط کا چرچا ہے تجھ سے کیا اپنا
بنا دیا ہے یہ کس نے پہاڑ رائی کا
وفا کی جنس ہے ہر جنس خوردنی جیسے
کہ زر بھی ہاتھ میں کاسہ ہوا گدائی کا
چکا دیا ہے خیالوں کی زر فشانی سے
جو قرض ہم پہ تھا خلقت کی دلربائی کا
خبر ضرور تھی طوفان کی تجھے ماجدؔ
تری پکار میں انداز تھا دہائی کا
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست