ہاں مرحلہ یہ بھی دیدنی ہے

ماجد صدیقی


رستے میں جو شام پڑ گئی ہے
ہاں مرحلہ یہ بھی دیدنی ہے
دشوار نہ تھی کچھ ایسی رہ بھی
کیوں سانس اکھڑ اکھڑ گئی ہے
دیکھا تھا جو دکھ عروج پر بھی
اب شام اسی کی ڈھل چلی ہے
کس چاند کی ضو زمیں پہ لایا
یہ جسم ترا، کہ چاندنی ہے
ماجدؔ ترے ہونٹ چوم لوں میں
کیا بات پتے کی تو نے کی ہے
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست