دل کا یہ زہر کسی طور تو اگلا جائے

ماجد صدیقی


نہ سہی چاند پہ منہ اپنے پہ تھوکا جائے
دل کا یہ زہر کسی طور تو اگلا جائے
تو نہیں ہے تو تری سمت سے آنے والی
کیوں نہ ان شوخ ہواؤں ہی سے لپٹا جائے
بے نیازی یہ کہیں عجز نہ ٹھہرے اپنا
اس جھکی شاخ سے پھل کوئی تو چکھا جائے
بے گل و برگ سی وہ شاخِ تمنا ہی سہی
دل کے اس صحن میں ہاں کچھ تو سجایا جائے
چونک اٹھے وہ شہنشاہ تغزل ماجدؔ
یہ سخن تیرا جو غالبؔ کو سنایا جائے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست