کہ ایک آن بھی خود سے جدا نہ پاؤں تجھے

ماجد صدیقی


نظر کی شاخ پہ اس طرح اب سجاؤں تجھے
کہ ایک آن بھی خود سے جدا نہ پاؤں تجھے
یہ چہچہے، یہ سحر، پو پھٹے کا منظرِ شب
ترا ہی عکس ہیں کس طرح میں بھلاؤں تجھے
مہک مہک ترا اک رنگِ گل بہ گل تری لے
تجھے لکھوں بھی تو کیا، کیسے گنگناؤں تجھے
نظر لگے نہ تمنائے وصل کو میری
صبا کا بھیس بدل لے گلے لگاؤں تجھے
سحر کا عکس ہے ماجدؔ تری غزل کا نکھار
یہ ایک مژدۂ جاں بخش بھی سناؤں تجھے
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست