یہ لمحۂ جاؤید گزرنے کا نہیں ہے

ماجد صدیقی


نشہ تری چاہت کا اترنے کا نہیں ہے
یہ لمحۂ جاؤید گزرنے کا نہیں ہے
کیا پوچھتے ہو حدت نظارہ سے دل میں
وہ زخم ہوا ہے کہ جو بھرنے کا نہیں ہے
لب بھینچ کے رکھوں تو چٹکتی ہے خموشی
اور ذکر بھی ایسا ہے جو کرنے کا نہیں ہے
کیوں سمت بڑھاتے ہو مری، برف سے لمحے
موسم مرے جذبوں کا ٹھٹھرنے کا نہیں ہے
اک عمر میں آیا ہے مرے ہاتھ سمٹنا
شیرازۂ افکار بکھرنے کا نہیں ہے
وہ راج ہے اس دل کے افق پر تری ضو کا
سورج کوئی اب اور ابھرنے کا نہیں ہے
ماجدؔ کو اگر بعد مؤدت تری درپیش
ہو موت سی آفت بھی تو مرنے کا نہیں ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست