آنے لگا ہے حرف، چمن کے جمال پر

ماجد صدیقی


مجھ برگِ خشک سے کہ ابھی ہوں جو ڈال پر
آنے لگا ہے حرف، چمن کے جمال پر
ممنوع جب سے آب فرات نمو ہوا
کیا کچھ گئی ہے بیت، گلستاں کی آل پر
مانند زخم، محو شجر سے بھی ہو گئے
چاقو کے ساتھ نام کھدے تھے جو چھال پر
گرگان باتمیز بھی ملتے ہیں کچھ یہاں
کیجے نہ اعتبار دکھاوے کی کھال پر
ماجدؔ رہیں نصیب یہ دانائیاں انہیں
قدغن لگا رہے ہیں جو برقِ خیال پر
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست