لیکن شکست عزم کا طعنہ نہ دے مجھے

ماجد صدیقی


یہ دور کرب جو بھی کہے سو کہے مجھے
لیکن شکست عزم کا طعنہ نہ دے مجھے
جس موج کو گلے سے لگاتا ہوں بار بار
ایسا نہ ہو یہ موج الم لے بہے مجھے
میں خود ہی کھل اٹھوں گا شگفت بہار پر
موسم یہ ایک بار سنبھالا تو دے مجھے
سایہ ہوں اور رہین ضیا ہے مرا وجود
سورج کہیں نہ ساتھ ہی لے کر ڈھلے مجھے
ماجدؔ ہو کوئی ایسی تمنا کہ رات دن
بادِ صبا کے ساتھ اڑاتی پھرے مجھے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست