ہوتا نہیں چاند کا گزر تک

ماجد صدیقی


یہ حال ہے اب افق سے گھر تک
ہوتا نہیں چاند کا گزر تک
یہ آگ کہاں دبی پڑی تھی
پہنچی ہے جو اب دل و جگر تک
دیکھا تو یہ دل جہاں نما تھا
محدود تھے فاصلے نظر تک
ہوں راہی منزل بقا اور
آغاز نہیں ہوا سفر تک
تھے رات کے زخم یا ستارے
بجھ بجھ کے جلے ہیں جو سحر تک
ہے ایک ہی رنگ، درد جاں کا
ماجدؔ نم چشم سے شرر تک
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست