آپ نے مفت میں رو رو کے سجائیں آنکھیں

حسرت موہانی


اب وہ فرماتے ہیں کب میں نے دکھائیں آنکھیں
آپ نے مفت میں رو رو کے سجائیں آنکھیں
مضطرب ہم بھی رہے رات تڑپ کر کافی
دل بھی بے چین رہا ان کی جو آئیں آنکھیں
حسن مغرب میں ہمیں ساعد و گیسو کے سوا
اور بھی کچھ نظر آیا تو وہ بھائیں آنکھیں
رات مجھ ملزم پابوس کو از راہ کرم
سرزنش کچھ بھی نہ کی خود وہ لجائیں آنکھیں
داغ لگ جائے گا دامان وفا میں حسرتؔ
تم نے دیکھو جو کہیں اور لگائیں آنکھیں
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست