کس درجہ دل پذیر تماشائے عشق ہے

حسرت موہانی


تاباں جو نور حسن بہ سیمائے عشق ہے
کس درجہ دل پذیر تماشائے عشق ہے
ارباب ہوش جتنے ہیں بیمار عقل ہیں
ان کے لیے ضرور مداوائے عشق ہے
میں کیا ہوں ایک ذرۂ صحرائے اشتیاق
دل کیا ہے ایک قطرۂ دریائے عشق ہے
شاہ و گدا کا فرق نہیں عہد حسن میں
اب جس کو دیکھیے اسے دعوائے عشق ہے
ظاہر ہے بے قراری پیہم سے حالِ دل
بے کار ہم کو دعوائے اخفائے عشق ہے
پنہاں حجابِ ناز میں ہے صورت جمال
پیدا حروف شوق سے معنائے عشق ہے
اے اہل عقل کیوں ہو اسے فکر نام و ننگ
حسرتؔ خراب عشق ہے رسوائے عشق ہے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست