ہزاروں پیار کرتے ہیں نبھانا کس کو آتا ہے

شکیل بدایونی


یہ دنیا ہے یہاں دل کو لگانا کس کو آتا ہے
ہزاروں پیار کرتے ہیں نبھانا کس کو آتا ہے
یہ دنیا ہے یہاں دل میں سمانا کس کو آتا ہے
مٹانے والے لاکھوں ہیں بنانا کس کو آتا ہے
نگاہیں پھیر لیں تم نے تو ہم کس کی طرف دیکھیں
تمہی کہہ دو محبت کا فسانا کس کو آتا ہے
وفا کا یوں تو دم بھرتے ہیں اس دنیا میں سب لیکن
وفا کے نام پر مٹ کر دکھانا کس کو آتا ہے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست