بہتر یہی ہے ان کو بھلا دیجیے گا آپ

شکیل بدایونی


کب تک شکیلؔ دل کو دعا کیجیے گا آپ
بہتر یہی ہے ان کو بھلا دیجیے گا آپ
پھر تشنۂ جمال بنا دیجیے گا آپ
رخ سے نقاب الٹ کر گرا دیجیے گا آپ
دل کے عوض تو غم ہی دیا آپ نے مگر
اب جاں بھی نذر کر دوں تو کیا کیجیے گا آپ
ہوتا جبین حسن پہ گمنامیوں کا داغ
وہ تو مری نظر کو دعا کیجیے گا آپ
احساس ترک شوق بجا ہے مگر شکیلؔ
مانگا جواب دل نے تو کیا دیجیے گا آپ
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست