محبت آئینہ ہو چکی تھی وجود بزمِ جہاں سے پہلے

شکیل بدایونی


لطیف پردوں سے تھے نمایاں مکیں کے جلوے مکاں سے پہلے
محبت آئینہ ہو چکی تھی وجود بزمِ جہاں سے پہلے
نہ وہ مرے دل سے با خبر تھے نہ ان کو احساس آرزو تھا
مگر نظام وفا تھا قائم کشود رازِ نہاں سے پہلے
ہر ایک عنوان دردِ فرقت ہے ابتدا شرح مدعا کی
کوئی بتائے کہ یہ فسانہ سنائیں ان کو کہاں سے پہلے
مسرتیں رازدار غم تھیں مسرتوں میں الم تھا پنہاں
جبھی تو صحنِ چمن میں شاید بہار آئی خزاں سے پہلے
سمجھ رہا تھا کہ نا امیدی نہ پردہ دار امید ہو گی
نظر اٹھا کر جو میں نے دیکھا غبار تھا کارواں سے پہلے
اٹھا جو مینا بدست ساقی رہی نہ کچھ تابِ ضبط باقی
تمام مے کش پکار اٹھے یہاں سے پہلے یہاں سے پہلے
قسم فریبِ نگاہ و دل کی ہمیں تو اس جستجو نے کھویا
وہیں تھی دراصل اپنی منزل قدم اٹھے تھے جہاں سے پہلے
ازل سے شاید لکھے ہوئے تھے شکیلؔ قسمت میں جور پیہم
کھلی جو آنکھیں اس انجمن میں نظر ملی آسماں سے پہلے
مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن
جمیل مثمن سالم
فہرست