آگ پانی میں لگائی جائے گی

شکیل بدایونی


ان کو شرحِ غم سنائی جائے گی
آگ پانی میں لگائی جائے گی
کھنچ کے دیکھیں گے کسی سے ایک بار
یوں بھی قسمت آزمائی جائے گی
تیری نظروں میں ہے جو تاثیر جذب
اب مرے نالوں میں پائی جائے گی
میری صبح زندگی کی اک جھلک
ڈوبتے تاروں میں پائی جائے گی
آپ ہی کہیے کہ موج اضطراب
آپ سے کیوں کر چھپائی جائے گی
راز رکھ رازِ محبت اے شکیلؔ
یہ غزل محفل میں گائی جائے گی
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مسدس محذوف
فہرست