آئے گی مگر دیکھیے کب آئے قیامت

فانی بدایونی


ہو کاش وفا وعدۂ فردائے قیامت
آئے گی مگر دیکھیے کب آئے قیامت
سنتا ہوں کہ ہنگامۂ دیدار بھی ہو گا
ایک اور قیامت ہے یہ بالائے قیامت
ہم دل کو ان الفاظ سے کرتے ہیں مخاطب
اے جلوہ گہ انجمن آرائے قیامت
اللہ بچائے غمِ فرقت وہ بلا ہے
منکر کی نگاہوں پہ بھی چھا جائے قیامت
فانیؔ یہ مگر راہِ محبت کی زمیں ہے
ہر ذرے میں ہے وسعتِ صحرائے قیامت
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست