بادل تھا برس کے چھٹ گیا ہے

احمد فراز


رونے سے ملال گھٹ گیا ہے
بادل تھا برس کے چھٹ گیا ہے
اب دوش پہ سر نہیں تو گویا
اک بوجھ سا دل سے ہٹ گیا ہے
یہ خلوتِ جاں میں کون آیا
ہر چیز الٹ پلٹ گیا ہے
کیا مالِ غنیم تھا مرا شہر
کیوں لشکریوں میں‌ بٹ گیا ہے
اب دل میں فراز کون آئے
دنیا سے یہ شہر کٹ گیا ہے
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست