نگہ نیچی کیے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں

امیر مینائی


ملا کر خاک میں بھی ہائے یہ شرم ان کی نہیں جاتی
نگہ نیچی کیے وہ سامنے مدفن کے بیٹھے ہیں
بڑے ہی قدر داں کانٹے ہیں صحرائے محبت کے
کہیں گاہک گریباں کے ، کہیں دامن کے بیٹھے ہیں
وہ آمادہ سنورنے پر، ہم آمادہ ہیں مرنے پر
ادھر وہ بن کے بیٹھے ہیں، ادھر ہم تن کے بیٹھے ہیں
امیر، اچھی غزل ہے داغ کی، جس کا یہ مصرع ہے ،
بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست