خوف کا صحرا

شاذ تمکنت


کیا ہوا شوقِ فضول
کیا ہوئی جرأتِ رندانہ مری
مجھ پہ کیوں ہنستی ہے تعمیر صنم خانہ مری
پھر کوئی باد جنوں تیز کرے
آ گہی ہے کہ چراغوں کو جلاتی ہی چلی جاتی ہے
دور تک خوف کا صحرا نظر آتا ہے مجھے
اور اب سوچتا ہوں فکر کی اس منزل میں
عشق کیوں عقل کی دیوار سے سر ٹکرا کر
اپنے ماتھے سے لہو پونچھ کے ہنس پڑتا ہے
 
فہرست