زنجیر کی چیخ

شاذ تمکنت


سمندر تجھے چھوڑ کر جا رہا ہوں
تو یہ مت سمجھنا
کہ میں تیری موجوں کی زنجیر کی چیخ سے بے خبر ہوں
یہی میں نے سوچا ہے اپنی زمیں کو
افق سے پرے یوں بچھا دوں
وہ تو ہو کہ میں
اپنی وسعت میں لا انتہا ہیں
مگر ہم کناروں کے مارے ہوئے ہیں
 
فہرست